چارہ جوئی[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - علاج، تدبیر؛ نالش، استغاثہ، (جومظلوم کی طرف سے حاکم کے سامنے بہ طلب انصاف و فیصلہ کیا جائے)؛ فریاد۔ ضرور نہیں کہ کسی عدالت میں چارہ جوئی کی جائے"      ( ١٩٣٣ء، جنایات برجائداد، ١٠٧ ) ٢ - تدارک یا تلافی، ضرر یا تکلیف سے بچاؤ کی تدبیر، علاج معالجے کی صورت، چارہ سازی۔ تدبیر، تقدیر کے زخموں کی چارہ جوئی سے قاصر ہو گی"      ( ١٩١٢ء، یاسمین، ٢٧ )

اشتقاق

فارسی زبان کے اسم 'چارہ' کے ساتھ 'جستنن' مصدر سے فعل امر 'جو' بطور لاحقۂ فاعلی لگایا گیا اور آخر پر 'ئی' بطور لاحقۂ کیفیت لگایا گیا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٧٥ء میں "آئینہ ناظرین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - علاج، تدبیر؛ نالش، استغاثہ، (جومظلوم کی طرف سے حاکم کے سامنے بہ طلب انصاف و فیصلہ کیا جائے)؛ فریاد۔ ضرور نہیں کہ کسی عدالت میں چارہ جوئی کی جائے"      ( ١٩٣٣ء، جنایات برجائداد، ١٠٧ ) ٢ - تدارک یا تلافی، ضرر یا تکلیف سے بچاؤ کی تدبیر، علاج معالجے کی صورت، چارہ سازی۔ تدبیر، تقدیر کے زخموں کی چارہ جوئی سے قاصر ہو گی"      ( ١٩١٢ء، یاسمین، ٢٧ )

جنس: مؤنث